ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اتراکھنڈ:اب اردو نہیں سنسکرت میں لکھے جائیں گے ریلوے اسٹیشنوں کے نام

اتراکھنڈ:اب اردو نہیں سنسکرت میں لکھے جائیں گے ریلوے اسٹیشنوں کے نام

Mon, 20 Jan 2020 11:30:33    S.O. News Service

نئی دہلی،20/جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی) ریلوے نے اتراکھنڈ میں آنے والے سبھی اسٹیشنوں کے نام اردو کے بجائے سنسکرت میں لکھنے کا فیصلہ کیا ہے - قابل ذکر ہے کہ پہلے پلیٹ فارم پر ریلوے اسٹیشن کانام ہندی، انگریزی اور اردو میں لکھا ہوتاتھا - نئے فیصلے کے بعد اب ہندی، انگریزی اور سنسکرت میں یہ نام لکھے جائیں گے - ریلوے حکام کے مطابق یہ فیصلہ ریلوے ضابطہ کے مطابق کیا گیا ہے جوکہتا ہے کہ ریلوے اسٹیشنوں کا نام ہندی،انگریزی اور ریاست کی دوسری سرکاری زبان میں لکھا جاناچاہئے-2010 میں اتراکھنڈ سنسکرت کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان بنانے والی پہلی ریاست بنی ہے -اس وقت کے وزیر اعلیٰ رمیش پوکھریال نشنک نے کہاتھا کہ انہوں نے ریاست میں سنسکرت کی نشرواشاعت کے لئے یہ فیصلہ کیا ہے اتراکھنڈ کے بعد سال 2019 میں ہماچل سرکار نے بھی سنسکرت کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان بنایا -اترریلوے کے سی پی آر او دیپک کمار نے بتایا کہ ریلوے ضابطہ کے مطابق ریلوے اسٹیشنوں کے نام ہندی،انگریزی کے علاوہ ریاست کی دوسری سرکاری زبان میں لکھے جاتے ہیں -یہ پوچھے جانے پر کہ یہ فیصلہ لینے میں پوری ایک دہائی کیوں لگ گئی، انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے اردو کو ریلوے کی تیسری زبان کے طور پر استعمال کیا جاتاتھا کیونکہ اتراکھنڈ اترپردیش کا حصہ تھا جہاں اردو دوسری سرکاری زبان ہے حالانکہ جب کسی نے اس جانب ہماری توجہ دلائی، تب ہم نے اس کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے - ڈی سی ایم نے بتایا کہ ریاست کے سبھی ریلوے اسٹیشنوں کا سنسکرت میں صحیح ترجمہ کرنا ہمارے لئے ایک چیلنج ہوگا-ریلوے کے ایک دوسرے افسر ایس کے اگروال نے کہا کہ ریاست کے جن اضلاع میں ریلوے اسٹیشن آتے ہیں ان کے ضلع مجسٹریٹ کو ہم نے خط لکھ کر اسٹیشنوں کے نام کا ہندی، انگریزی اور سنسکرت میں صحیح املا پوچھا ہے ہم ان کے جواب کا انتظار کررہے ہیں - وہیں ایک مقامی سنسکرت ٹیچر نے بتایا کہ ریلوے اسٹیشنوں کے ہندی اور سنسکرت میں نام تقریباً ایک جیسے ہی رہیں گے کیونکہ دونوں زبانوں کے لئے دیوناگری رسم الخط کا استعمال ہوتا ہے انہوں نے بتایا کہ دہرادون کو سنسکرت میں دہرادونم دہری دوارکوہری دوارم اور روڑکی لکھا جائے گا-


Share: